فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں غوش عتصیون چوک کے قریب اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی لڑکے کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی لڑکے کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب اس نے فوجیوں پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی۔
اسرائیل کےعبرانی نیوز ویب پورٹل’’ 0404 ‘‘ نے فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کی شام ایک فلسطینی نوجوان نے یہودی آباد کار پر چاقو سے حملہ کردیا جس کےقریب ہی موجود فوجیوں نے حملہ آور فلسطینی کو گولیاں مار دیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہید فلسطینی نوجوان کی عمر سترہ سال ہے جس کی شناخت احمد یونس الکوازبہ کےنام سے کی گئی ہے۔ اس کا تعلق الخلیل شہر کے سعیر قصبے سے ہے۔
ہلال احمر فلسطین کا کہنا ہے کہ شہید فلسطینی نوجوان کا جسد خاکی اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لیا جسے بعد میں اس کے لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کےدوران قابض فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو کے قریب فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔
بصیرت آن لائن
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان