Turkish Prime Minister Ahmet Davutoglu speaks during a news conference following his meeting with President Tayyip Erdogan in Ankara, Turkey, November 24, 2015. REUTERS/Umit Bektas
ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے الزام عاید کیا ہے کہ روسی فوج شمالی شام کے سنی اکثریتی شہر اللاذقیہ میں اہل سنت مسلک کی آبادی کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی فوج جن علاقوں میں آپریشن کی آڑ میں کارروائیاں کر رہی ہے وہاں پر ترکمان اور سنی مسلمان مقیم ہیں۔ شامی حکومت روسی فوج کی مدد سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اللاذقیہ سے سنیوں اور ترکمانوں کو وہاں سے نکال باہرکرنا چاہتی ہے تاکہ للاذقیہ میں روسی اور شامی فوجوں کا محفوظ مرکز بنانے میں مدد لی جاسکے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مطبق اپنے ایک انٹرویو میں ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے اب تک شام میں جتنے بھی حملے کیے ہیں ان کےنتیجے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔
احمد داؤد اوگلو کا کہنا تھا کہ روسی فوج شمالی شام کے اللاذقیہ شہر میں ترکمان اور سنی آبادی کی نسل کشی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ چونکہ ترکمان اور سنی آبادی شامی حکومت کی حمایت نہیں کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں طرطوس اور اللاذقیہ میں نسل کشی کا سامنا ہے۔
روس کا جنگی جہاز مار گرائے جانے کے بعد ماسکو اور انقرہ میں پیدا ہونے والے تنازع کے حوالے سے ترک وزیراعظم نے کہا کہ ہم دو طرف کشیدگی کے خاتمے کےلیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطے اور ہم آہنگی کے بغیر کوئی بھی کارروائی حادثے کا موجب بن سکتی ہے۔ روس نے فوجی کارروائی سے قبل ہم سے کسی قسم کا رابطہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
عراق میں ترک فوج کی موجودگی
عراق میں ترک فوج داخل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں احمد داؤد اوگلو کا کہنا تھا کہ شمالی عراق میں فوج اس لیے داخل کی گئی کیونکہ وہاں پر دولت اسلامی ’’داعش‘‘ مضبوط ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ ترک فوجوں کی عراق میں مداخلت جارحیت نہیں بلکہ بغداد کے ساتھ تعاون ہی کی ایک شکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمالی عراق سے داعش کی جانب سے ترک فوج کو دھمکیوں اور خطرات کا سامنا تھا۔ ان خطرات کے تدارک کے لیے فوج داخل کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں داعش کے خلاف کارروائی کرنے والی ترک فوج کے پاس ہلکے ہتھیار ہیں۔ ہم عراق میں امن وامان کے قیام میں مدد کے لیے وہاں گئے ہیں اسے جارحیت نہ سمجھا جائے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام