روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے ترکی پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں۔
روس اور ترکی کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید شدت آرہی ہے گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آئے تھے تاہم آج ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے روس کے مار گرائے جانے والے طیارے پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشید گی کم ہوتی نہیں دکھائی دے رہی اور اب روس طیارہ گرانے پر اپنا اقدام اٹھاتے ہوئے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے پیکیج کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں، حکم نامے کے تحت روس میں کام کرنے والی کئی ترک کمپنیوں اور ترکی سے درآمد کی جانے والی بعض اشیاء پر پابندی لگادی گئی ہے جب کہ ترک شہریوں کے روسی کمپنیوں میں نوکری پر بھی بابندی عائد ہوگی۔ حکم نامے کے مطابق روس نے ترکی کے خلاف سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے تمام چارٹرڈ فلائٹس کو بھی منسوخ کردیا ہے اور روسی ٹریول ایجنسیوں کو ترکی کے سیاحتی دوروں کو بھی روکنے کاحکم دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ترکی نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر روس کا طیارہ مارگرایا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازعات شدت اختیار کرگئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان