پیرس حملوں کے بعد کینیڈا نے بھی شامی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی سخت کرلی ہے۔ شام سے تنہا آنے والے مردوں کو پناہ نہ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
کینیڈین میڈیا کےمطابق یہ اقدام سیکیورٹی کی وجوہات کے سبب کیا گیا ہے اور اب صرف، خواتین، بچوں اور فیمیلز کو پناہ دی جائےگی۔ نئی پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا۔
کینیڈا کے نو منتخب وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے 25ہزار شامیوں کو اس سال پناہ دینے کا اعلان کیا تھا اور پناہ کے طالب سو افراد کو روزانہ لبنان میں چیک کیا جا رہا ہے۔
سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 51فیصد کینیڈین شہری شامیوں کو پناہ دینے کے مخالف ہیں اور 58فیصد شامی باشندوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
جنگ نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان