امریکی ڈرون آپریٹرز نے ڈرون حملوں میں90 فیصد بے گناہ شہریوں کے مارے جانے کا راز افشا کرتے ہوئے صدر اوباما کو ڈرون پروگرام پر نظر ثانی کی اپیل کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 4 سابق ڈرون آپریٹرز نے کہا کہ حکمران جھوٹ بولتے ہیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ڈرون حملوں میں مرنے والے 90 فیصد عام افراد، خواتین اور بچے ہوتے ہیں جب کہ ڈرون حملوں میں مرنے والے بچوں کو زیرتربیت دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔
سابق ڈرون آپریٹرز نے کہا کہ پیرس حملوں کے بعد ان کا یقین پکا ہوگیا ہے کہ ڈرون حملے امریکا اور اتحادیوں کے خلاف نفرت میں اضافے اورداعش کے وجود کا سبب بن رہے ہیں، ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کے اہل خانہ انتقاماً انتہا پسند تنظیموں میں بھرتی ہوتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار