پیرس حملوں کے بعد فرانس میں مسلمانوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے جبکہ امریکی ریاست مشی گن کے گورنر نے شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پیرس میں دہشت گردی کے بعد مسلمانوں کی مشکلات بڑھنے لگیں۔
فرانسیسی وزیر داخلہ نے کچھ مساجد کو بند کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ایک فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر کہا کہ نفرت پھیلانے والے علما کو ملک بدر کر کے ان کی مساجد کو بند کر دینا چاہیے۔
فرانس سے گزشتہ تین سال میں چالیس مسلم مذہبی رہنمائوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے جن میں سے پچیس فیصد رواں سال کے چھ ماہ میں نکالے گئے۔ دوسری جانب امریکی ریاست مشی گن کے گورنر نے مزید شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں رِک اسنائڈر نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنانے تک وہ کسی پناہ گزین کو جگہ نہیں دیں گے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…