ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں مولانا شوکت علی سپرد لحد

جامع مسجد ممبئی کے امام وخطیب حضرت مولانا سید شوکت علی نظیر جن کا گزشتہ روز ان کے آبائی گائوں مہندری میں انتقال ہوگیا تھا آج دوپہر تقریباً 12بجے گائوں کے قریب ان کے آبائی قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیاگیا۔
جنازے کی نماز مفتی احمد خانپوری (استاد حدیث وصدر مفتی دارالافتاء ومدرسہ اسلامیہ ڈابھیل گجرات) نے پڑھائی، جنازے کی نماز میں علماء کرام کی بڑی تعداد کے علاوہ ممبئی، گجرات اورمہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ حضرت مولانا شوکت علی نظیر گزشتہ پچاس سال سے زائد عرصے سے جامع مسجد ممبئی کے امام وخطیب تھے، گزشتہ چند سالوں سے وہ انتہائی طو رپر کمزور ہونے کی وجہ سے آرام فرما رہے تھے وہ اپنے آبائی گائوں تعلقہ مہسلہ کے مہندری گائوں گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے گزشتہ روز آخری سانس لی۔
مولانا کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی نہ صرف ممبئی ومہاراشٹر بلکہ گجرات میں بھی رنج والم کا ماحول بن گیا تھا اور گزشتہ شام سے ہی لوگ ان کے آبائی گائوں کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ آج علی الصبح ممبئی سے بڑی تعداد میں لوگ مہندری گائوں پہنچے، جہاں انہوں نے حضرت مولانا سید شوکت علی کا آخری دیدار کیا۔ بتایاجاتا ہے کہ جنازے کے قافلے میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ، مفتی عزیز الرحمن فتح پوری، جامعہ حسینہ شریوردھن کے سربراہ مولانا ابراہیم (خلیفہ مولانا پیر ذوالفقار علی نقشبندی ) سمیت کئی جید عالم بھی موجود تھے چونکہ مولانا سید شوکت علی کی شخصیت ان کی منکسرالمزاجی کی وجہ سے مقبول عام تھی اس لیے لاکھوں کی تعداد میں ان کے معتقدین بھی تھے۔
کہاجاتا ہے کہ کوکن ورتناگیری میں کسی بھی جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک نہیں ہوئے تھے۔ مولانا کی عبقری شخصیت سے لوگ روحانی طور پر فیض حاصل کرتے تھے آپ کی نرم گفتاری، زہد و تقویٰ وپرہیز گاری سے مسلمانوں کے سبھی مکتب فکر کے لوگ بے حد مانوس تھے۔ خالص دینی ذہنیت اورملت کی اصلاح کی بے پناہ تڑپ رکھتے تھے۔ حالانکہ تدفین کا وقت پہلے صبح 11بجے رکھاگیاتھا لیکن جب یہ پتہ چلا کہ بڑی تعداد میں لوگ جنازے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں تو تدفین کا وقت 12بجے کردیاگیا، مہندری گائوںکے چاروں طرف سفید کپڑوں میں ملبوس مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے محسن حضرت مولانا شوکت علی نظیر کو کاندھا دینے کے لیے امڈ پڑی تھی۔ ناگپور، مالیگائوں، دھولیہ، سے بھی بڑی تعداد میں معتقدین ومتوسلین مہندری گائوں پہنچے تھے۔ بتایاجاتا ہے کہ مہسلہ تعلقہ کے چاروں طرف سے جنازے میں شریک ہونے والوں کاتانتا بندھا ہوا تھا۔ کئی جگہ سڑکوں پر جام بھی دیکھا گیا۔ پولس اور ٹریفک پولس کا بھی بندوبست کیاگیا تھا ۔ مہندری گائوں میں 125گھروں پر مشتمل مسلمان آباد ہیں جو سب کے سب سید زادگان ہیں ۔
غیر مسلم حضرات شش وپنج میں تھے کہ مہندری گائوں میں اتنی بڑی شخصیت رہتی تھی اور ہمیں نہیں معلوم تھا۔ لوگوں کو حضرت مولانا سید شوکت علی کی شرافت، رواداری، پاکبازی اور ایمانداری کا علم تو تھا مگر ان کے معتقدین کی اتنی کثیر تعداد ہوگی اس کا علم نہیں تھا۔ جنازے میں شریک ہر شخص سوگوار اور غمگین تھا۔

بصیرت آن لائن

baloch

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

4 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago