Categories: عالم اسلام

پاک بھارت قومی سلامتی کےمشیر دہشتگردی پر بات کریں گے

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر دہشت گردی سے متعلق معاملات پر بات چیت کے لیے فوری طور پر ملاقات کریں گے۔

یہ بات روسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ ملاقات بہت جلد نئی دہلی میں ہوگی جبکہ بھارتی وزیراعظم خود بھی آئندہ برس سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے رواں برس مئی میں بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ پر کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ بھارت ممبئی حملوں کے مقدمے میں ملوث پاکستانی شدت پسند ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی پر ناراضی کا اظہار کر چکا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت ممبئی حملہ کیس میں مزید شواہد پاکستان کو فراہم کرے گی جن میں ان فون کالوں کا ریکارڈ اور آوازوں کے نمونے بھی موجود ہوں گے جو اس حملے کے دوران مبینہ طور پر پاکستان سے حملہ آوروں کو کی گئیں۔
اس کے علاوہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی ہم منصب کی جانب سے اگلے برس پاکستان میں منعقد ہونے والے سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعے کو روس کے شہر اوفا کے کانگریس ہال میں ایک گھنٹے تک ملاقات ہوئی۔ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے حاشیے پر منعقد ہوئی۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملاقات طے شدہ دورانیے سے زیادہ وقت تک جاری رہی جس میں دونوں وزرائے اعظم کے ہمراہ وفود بھی موجود تھے۔
اس ملاقات کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا اور اور نہ ہی دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی تاہم بعدازاں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی۔
اہلکاروں نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ قیامِ امن اور ترقی کو یقینی بنائیں اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک ہر مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس موقعے پر بھارتی سیکریٹری خارجہ نے پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان طے پانے والے پانچ اہم نکات کو پڑھ کر سنایا۔
1. دونوں ممالک کے متعلقہ حکام دہشت گردی کے مسئلے سے وابستہ تمام معاملات پر نئی دہلی میں ملیں گے۔
2. بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستانی رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کی ملاقات منعقد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈی جی ملٹری آپریشنز کی ملاقات بھی ہو گی۔
3. ماہی گیروں کی رہائی کا فیصلہ 15 دن کے اندر کریں گے۔
4. مذہبی مقامات کی زیارت کی غرض سے پر سرحد پار آنے جانے کو کو بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
5. ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے دو طرفہ تعاون کرنے پر اتفاق بھی ہوا۔ اس ضمن میں دیگر تعاون سمیت ملزموں کی آوازوں کی ریکارڈنگ کا تبادلہ بھی کرنے پر اتفاق ہوا۔
6. مشترکہ بیان کے اختتام پر بھارتی سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے اگلے سال پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسے نریندر مودی نے قبول کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان آخری ملاقات گذشتہ سال مئی میں کھٹمنڈو میں ہوئی تھی۔

بی بی سی اردو

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago