افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبہ ہلمند میں طالبان نے چیک پوسٹوں پر حملوں میں کم سے کم بیس پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق درجنوں طالبان جنگجوؤں نے موسیٰ قلعہ کے شورش زدہ اور دور افتادہ ضلع میں یہ حملے کیے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان حملوں میں کم سے کم 25 پولیس والوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں بھاری اسلحہ بھی ان کے ہاتھ لگا ہے۔
گزشتہ برس بیشتر امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان نے اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔
پولیس کے ترجمان محمد اسمعیل ہوتک کے مطابق یہ حملے جمعہ کے روز دیر گئے شروع ہوئے اور جھڑپیں سنیچر تک جاری تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ دوسرے اضلاع سے پولیس کی کمک روانہ کر دی گئی ہے۔
اسمعیل ہوتک کے مطابق زیادہ تر حملوں میں چھوٹی پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں صرف دو یا تین اہلکار تعینات تھے۔ تاہم بعض مقامات پر پولیس کی بڑی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں پولیس اہل کار بالعموم کم تربیت یافتہ اور کم مسلح ہوتے ہیں اسی لیے حملوں میں زیادہ نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔
گزشتہ ماہ ہلمند کے نوزاد ضلع میں طالبان نے حملہ کرکے 19 پولیس والوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
طالبان افغانستان میں موجودہ امریکا نواز حکومت کا خاتمہ کرکے ملک میں سختگیر اسلامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان