پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اطلاعات کے مطابق امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں کم سے کم چار مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملہ پیر کی شام شمالی وزیرستان کے پاک افغان سرحدی علاقے شوال میں اس وقت ہوا جب بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون طیارے سے ایک ڈبل کیبن گاڑی کو دو میزائیلوں سے نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ مرنے والے افراد مقامی ہیں یا غیر ملکی۔
قبائلی علاقوں میں رواں سال یہ اٹھواں امریکی ڈرون حملہ ہے اس سے پہلے زیادہ تر امریکی جاسوس طیاروں کے حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں کیے گئے ہیں جس میں درجنوں شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سنہ 2004 سے امریکی ڈرون طیاروں کے حملے جاری ہیں جس کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اب چار سو تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں میں سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی شدت پسند مارے جاچکے ہیں جن میں بعض اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب بھی جاری ہے جس کی وجہ سے ایجنسی کا نوے فیصد علاقے شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔
پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔
پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان