پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کراچی سے متصل علاقے حب میں اتوار کی شب بم کے ایک دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 11زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
حب میں ایک پولیس اہلکار نے فون پر بتایا کہ دھماکے کے وقت صدر ممنون حسین کے صاحبزادے کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔
پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کرکے اسے ایک ہوٹل کے قریب کھڑا کیا تھا۔
موٹر سائیکل پر نصب دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹ گیا جب وہاں سے گاڑیوں کا ایک قافلہ گزر رہا تھا۔
پولیس اہلکار کے مطابق یہ قافلہ صدر ممنوں حسین کے بیٹے کا تھا جو اس وقت حب کے علاقے سے کراچی کی جانب جا رہا تھا۔ اہلکار نے بتایا کہ صدر کا صاحبزادہ حب کے علاقے میں اپنے پولٹری فارم پر آیا تھا۔
دھماکے کے باعث کم از کم تین افراد ہلاک اور پانچ پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے میں صدر کے صاحبزادے محفوظ رہے تاہم ان کے پولیس سکواڈ کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں سے بعض کو ابتدائی طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیاکہ اس بم حملے کا ہدف صدر ممنون حسین کے بیٹے کا قافلہ تھا۔
دوسری جانب گزشتہ شب پنجگور میں بلوچستان کے وزیر صحت رحمت بلوچ کے گھر پر راکٹ حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام