شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اصلاح و تزکیہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ’اسلامی تعلیمات‘ کو اس مقصد کے حصول کے لیے بہترین قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بائیس مئی دوہزار پندرہ میں زاہدان کے اہل سنت عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اخلاقی برائیوں کی وجہ سے بندے کی قدر بری طرح گر جاتی ہے جبکہ اصلاح درون پر توجہ دینے سے انسان کی قدروقیمت بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: انسان کی اصلاح و تزکیہ کے لیے اسلام کی منصوبہ بندی بہترین ہے۔ پوری دنیا میں دین اسلام و شریعت محمدی ﷺ سے بہتر منصوبہ بندی فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے موجود نہیں ہے۔ اسی سے ابدی زندگی کی سعادت بھی نصیب ہوتی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام انسان سازی کے بہترین ماہرین تھے۔
ممتاز سنی عالم دین نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اگر انسان کفر، نفاق، حسد، ریاکاری اور حب دنیا جیسے گناہوںسے مبتلا ہو تو وہ ہرگز اپنے حقیقی مقام تک نہیں پہنچ سکتا اور اللہ تعالی کے دربار میں اس کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔ ایسے فرد جو اپنی اصلاح نہیں کرتا، اگر اس دنیا میں اللہ کی سزا سے بچ جائے، آخرت میں ضرور سیاہ چہرے کے ساتھ قبر سے اٹھے گا اور جہنم اس کا مقام ہوگا۔ جو شخص عقل اور اندیشمندی کے باجود اللہ کو نہیں پہچانتا، اپنی خلقت کے مقصد سے نابلد ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت مسترد کرتاہے، وہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: نیک اعمال اور مکارم اخلاقی سے بندہ اللہ تک پہنچ جاتاہے۔ اصلاح و تزکیہ قرآن وسنت کا حکم ہے۔ روزہ انسان کی اصلاح کے لیے بہترین عبادت ہے جو بندے کو حسد، حب مال اور دیگر برائیوں سے پاک صاف رکھتاہے۔ اسی طرح اگر دھیان کے ساتھ نماز ادا کی جائے تو بندہ معاصی و گناہوں سے دور ہوجاتاہے۔ قرآن پاک کی تلاوت خاص کر رمضان المبارک میں انسان کی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
شعبان کے مبارک ایام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: شعبان خودسازی اور اصلاح کے لیے بہترین موقع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے علاوہ جس مہینے میں زیادہ روزے کا اہتمام فرماتے وہ شعبان ہی تھا۔ لہذا ان ایام کی گرمی برداشت کریں اور روزہ رکھیں۔
حضرت شیخ الاسلام نے کہا: قیامت کے دن صرف صاف اور سالم دل انسان کو فائدہ پہنچاتاہے۔ سالم قلب وہی ہے جس میں تکبر، خودپسندی، ریا، لالچ، حسد اور نفاق جیسی برائیاں موجود نہ ہوں۔ «يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ*إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ» [شعراء:88-89]، (اس دن میں کہ (نجات کے لیے) نہ مال کام آوے گا اور نہ اولاد۔ مگر ہاں (اس کی نجات ہوگی) جو الله کے پاس (کفر و شرک سے) پاک دل لے آوے گا۔) دراصل تمام اسلامی احکام وعبادات انسان کی اصلاح کے لیے ہیں۔ اگر کوئی شخص تمام آسمانی احکام پر عمل پیرا ہوجائے تو اس کی ذات سب سے زیادہ قیمتی بن جاتی ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں پبلک سکولوں کی سالانہ چھٹیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے والدین سے درخواست کی اپنے بچوں کے لیے مناسب منصوبہ بندی کریں اور انہیں قرآنی کلاسوں میں بھیج کر ان کے فارغ اوقات قیمتی بنائیں۔
مولانا عبدالحمید نے زاہدانی عوام اور تمام ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دارالعلوم زاہدان کی چوبیسویں تقریب دستاربندی اور اہل سنت کے سالانہ اجتماع کے انعقاد میں حصہ لیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام