مختلف محلوں میں نمازجمعہ قائم کرنا مطلوب نہیں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے نمازجمعہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ’ایک ہی مقام پر مسلمانوں کے اجتماع‘ کو نمازجمعہ کا فلسفہ و حکمت قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بیس مارچ دوہزارپندرہ (29 جمادی الاولی 1436) میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا: اسلام میں نمازجمعہ بہت ہی اہم ہے۔ مکہ مکرمہ میں چونکہ مسلمان سخت عقوبت میں تھے جمعہ کے لیے ان کا اجتماع ممکن نہیں تھا۔ پنجگانہ نمازوں کو خوف و ہراس کے سائے میں ادا کیا کرتے تھے۔ لیکن مدینہ منورہ ہجرت کرکے ہی مسلمانوں پر نمازجمعہ فرض ہوگئی۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلام کا حکم ہے پنچ وقتہ نمازوں کو محلے کی مسجد میں باجماعت ادا کرنا چاہیے۔ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مختلف محلوں میں مسجدیں تعمیر کی گئیں۔ لیکن جمعے کی نماز مسجدالنبی ہی میں قائم ہوا کرتی تھی۔ لہذا اسلام کا حکم ہے جمعے کی ادائیگی کے لیے مسلمان کسی مخصوص مکان میں اکٹھے ہوکر نماز ادا کریں۔
نمازجمعہ کی حکمت و فلسفہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: نمازجمعہ اس لیے فرض ہوئی تاکہ مختلف محلوں کے نمازی ایک ہی مقام پر اکٹھے ہوجائیں۔ مسلمانوں کا ایک ہی مقام پر اجتماع ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتاہے۔ لیکن یہ اجتماع سال میں دو مرتبہ عید کے ایام میں اور ہفتے میں ایک مرتبہ جمعے کو لازم قرار دیا گیا تاکہ کوئی حرج میں نہ پڑجائے۔
ایرانی بلوچستان کے بعض شہروں اور قصبوں میں بڑی تعداد میں نمازجمعہ کے اجتماعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: ایک ہی شہر میں متعدد محلوں میں بلاضرورت نمازجمعہ پڑھانے سے اس نمازکا فلسفہ حاصل نہیں ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس حوالے سے ہمارے لیے بہترین مثالیں ہیں۔ مدینہ منورہ میں ہمیشہ ایک ہی نمازجمعہ قائم ہوتی تھی اور اگر کسی وجہ سے بعض صحابہ نمازجمعہ سے رہ جاتے تو دوسری جماعت کرکے نماز جمعہ پڑھتے تھے۔ لیکن ہرگز انہوں نے اپنے ہی محلوں میں نمازجمعے کا اہتمام نہیں فرمایا۔
انہوں نے مزیدکہا: نمازجمعہ کے لیے اجتماع اسلام کے لیے قوت کا نقطہ ہے۔ سستی و کاہلی کی وجہ سے ہر گلی کوچے میں جامع مسجد بنانا غیرضروری اور نامطلوب ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا مفاد اس میں نہیں ہے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: اگر بعض صورتوں میں فقہائے عظام نے کسی شہر میں متعدد نمازجمعوں کی اجازت دی ہے تو اس کی وجہ بعض مجبوریاں اور مسائل تھی۔ اگر کہیں مناسب جگہ فراہم نہیں تو مناسب مسجد اور مقام کا اہتمام کیاجائے۔ جن کے پاس گاڑیاںاور بسیں ہیں وہ پیدل نمازیوں کو بھی ساتھ لائیں۔
اپنے خطاب کے آخر خطیب اہل سنت زاہدان نے ایرانی صدر کی والدہ کے انتقال پر ڈاکٹر روحانی، ان کے اہل خانہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی مکمل مغفرت کے لیے دعا کی۔

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

4 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

4 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago