داعش کے بمبار نے حکومت کی حامی صحوہ کے جنگجوؤں کو اس وقت بم حملے میں نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنی تن خواہیں وصول کرنے کے لیے ایک دفتر کے باہر جمع تھے۔داعش نے آن لائن پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور خودکش بمبار کی شناخت سیف الدین الانصاری کے نام سے کی ہے۔
واضح رہے کہ اہل سنت جنگجوؤں پر مشتمل صحوہ کی تشکیل عراق پر امریکی فوج کے حملے کے دوران کی گئی تھی اور انھوں نے داعش کی پیش رو تنظیم دولتِ اسلامی عراق کے خلاف مغربی صوبے الانبار میں جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور اس کی پیش قدمی روک دی تھی۔
اب ایک مرتبہ پھر عراقی حکومت کو صحوہ میں شامل جنگجوؤں کی داعش کے خلاف جنگ میں مدد درکار ہے اور وہ اس جنگجو گروپ کے خلاف لڑائی میں عراقی فورسز کا ساتھ دے رہے ہیں مگر امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے بعد سے بہت سے جنگجو تن خواہیں نہ ملنے اور دوسرے مسائل کی وجہ سے صحوہ کو خیرباد کَہ چکے ہیں۔
صحوہ کے ارکان کو عراقی حکومت قومی خزانے سے تنخواہیں ادا کرتی ہے لیکن ان کو اکثر تاخیر سے مہینے کی آخری تاریخوں میں تن خواہیں ادا کی جاتی ہیں۔اب عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی انھیں دوبارہ منظم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی حکومت نے حال ہی میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے ان میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تقسیم کیا ہے۔
عراقی وزیراعظم اس طرح کے پیرا ملٹری دستوں اورملیشیاؤں پر مشتمل نیشنل گارڈز تشکیل دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔اس کے لیے قانون سازی درکار ہے لیکن عراقی پارلیمان نے ابھِی تک ایسے کسی قانون کی منظوری دی ہے اور نہ حکومت نے ایسا کوئی قانون متعارف کرایا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…