اطلاعات کے مطابق النصرہ فرنٹ کے جنگجوئوں نے الزھراہ ٹائون کے قریب متمرکز شامی فوج کے مختلف ٹھکانوں پر بارود سے بھری گاڑیوں سے حملے کیے ہیں جس کے بعد فریقین میں ایک دوسرے کے خلاف بھاری اوردرمیانے درجے کے ہتھیاروں سے حملے جاری ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ النصرہ فرنٹ کے جنگجوئوں نے شمالی حلب میں صدر بشارالاسد کے اہم مرکز الزھراقصبے کے جنوب اور مشرقی اطراف سے حملے کیے جس کے بعد سرکاری فوجیوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کار بم دھماکوں اور اندھا دھند گولہ بارے کے نتیجے میں اسدی فوج کے دسیوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق بم دھماکوں کے بعد النصرہ فرنٹ کی طرف کافی پیش قدمی کرلی ہے تاہم سرکاری فوج کے دفاع کے لیے صدر بشارالاسد کی فضائیہ کے جنگی طیارے بھی فرنٹ کے جنگجوئوں پربمباری کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان