العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی الغوطہ کے یہ شہری زبدین قصبے میں پچھلے کئی ماہ سے محصور تھے۔ اس قصبے کا ایک جانب سے باغیوں نے محاصرہ کر رکھا تھا جبکہ دوسری طرف شامی فوج نے ڈیرے ڈال ہوئے تھے۔ چند روز قبل وہاں سے آٹھ خاندان فرار ہوئے اور بہ حفاظت دمشق پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ پیچھے رہ جانے والے شہریوں کو جب نقل مکانی والوں کی خیریت کی خبر ملی توانہوں نے بھی کوچ کی تیاری شروع کر دی۔
ایک مقامی شہر ابو الفداٗ نے بتایا کہ دمشق کی طرف نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی تعداد 100 سے زیادہ تھی، جن میں خواتین، بوڑھے، بچے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جب یہ لوگ زبدین۔ الملیحہ سڑک سے گذر رہے تھے تو شامی فوج جو گھات لگائے بیٹھی تھی نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ پہلے تو تمام خواتین اور بچوں کو بھی یرغمال بنا لیا گیا تاہم بعد ازاں عورتیں اور بچے تو رہا کر دیے مگر نوجوانوں بڑی تعداد کو نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
شامی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد سے باغیوں کے ساتھ تعلق کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں کچھ سیکیورٹی اداروں کو مطلوب افراد بھی شامل ہیں۔
ابو الفداء نے بتایاکہ جب پہلے مرحلےمیں آٹھ خاندان بہ حفاظت دمشق پہنچ گئے تو شامی فوج کو اندازہ ہوگیا کہ زبدین سے باقی شہری بھی فرار کی کوشش کریں گے۔ اسی امکان کے تحت وہ گھات لگا کر بیٹھ گئے کہ جیسے ہی زبدین سے لوگ نکلیں گے وہ انہیں پکڑ لیں گے اور مطلوب افراد ان کے ہاتھ لگ جائیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار