برطانوی اخبار “ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں طالبان میں شامل ہونے والے سرجن ڈاکٹر مرزا طارق علی کی ایک ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں اس نے مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ برطانوی اور دوسرے غیر ملکی مسلمانوں کو طالبان اور داعش میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 39 سالہ ڈاکٹر طارق علی کو سنہ 2013ء میں لندن میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک راہ گیر کو تشدد کا نشانہ بنانے پر حراست میں بھی لیا گیا۔ عدالت نے اسے قید کی سزا سنائی تاہم بعد ازاں وہ ضمانت پر رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ برطانوی حکومت نے فرار کے خدشے کے پیش نظر اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کر لیا تھا تاہم وہ اس کے باوجود برطانوی پولیس اور عدلیہ کو چکمہ دے کر بیرون ملک فرار میں کامیاب ہو گیا۔
ویڈیو فوٹیج میں وہ دعوی کرتا دکھائی دیتا ہے “کہ وہ برطانیہ سے فرار کے بعد شام جانا چاہتا تھا جہاں اس کی اگلی منزل “داعش ” تھی تاہم اسے راستے میں کروشیا میں گرفتار کیا گیا۔ کروشیا سے رہائی کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم اب وہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ شامل ہو چکا ہے اور تنظیم نے اسے ترجمان جیسا اہم ترین عہدہ بھی سونپا ہے۔
خیال رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت کے بعد برطانیہ سمیت کئی دوسرے مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے شام کا رُخ کیا۔ بیرون ملک سے آئے عسکریت پسندوں کی اکثریت دولت اسلامی”داعش” میں شامل ہوتی جا رہی ہے، ان میں برطانیہ کے سیکڑوں افراد بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکومت نے اپنے ملک سے گئے عسکریت پسندوں کا تعاقب شروع کیا ہے اور وطن واپسی روکنے کے لیے تمام شدت پسندوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان