سفید احرام میں ملبوس، ہرقسم کے صنفی، جغرافیائی لسانی اور رنگ ونسل کے امتیاز سے بے پرواہ تلبیہ پڑھتے ہوئے حجاج کرام اپنی قیام گاہوں سے بسوں کے ذریعے اور پیادہ وادی منیٰ کی جانب گامزن ہیں۔
اگلے مرحلے میں حجاج کرام میدان عرفات کی طرف بڑھیں گے اور طواف کعبہ کے بعد صفاء اور مروہ میں سعی کا فریضہ ادا کریں گے۔ سعی کے بعد مزدلفہ میں خیمہ زن ہوں گے اور طواف وداع سے قبل ایک بار پھر منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے لوٹیں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکومت نے حسب معمول ضیوف الرحمان کی ہرممکن سہولت کے لیے غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں۔ امدادی کارکن، رضاکار اورپولیس اہلکار حجاج کرام کے ساتھ ساتھ بھی چل رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان