مسلم اقلیتی برادری اویغور سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ جمعہ طاہر صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کی مرکزی مسجد کے امام تھے۔
انھیں 30 جولائی کو نمازِ فجر کے بعد مسجد کے باہر چاقو گھونپ کر ہلاک کیا گیا تھا۔
سزا سناتے ہوئے چینی عدالت نے کہا ہے کہ حملہ کرنے والے افراد مذہبی انتہاپسندی کا شکار تھے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس امام مسجد کی ہلاکت میں ملوث متعدد افراد کو پہلے ہی آپریشن کے دوران ہلاک کر چکی ہے۔
کاشغر کی عیدگاہ مسجد 600 سال قدیم ہے اور جمعہ طاہر کو اس کی امامت پر چین کی کمیونسٹ پارٹی نے تعینات کیا تھا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ طاہر مسلم اقلیتی برادری اویغور میں پسند نہیں کیے جاتے تھے کیونکہ وہ مسجد میں تبلیغ کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں کی تعریف کرتے تھے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وہ اس سرکاری موقف کی بھی تائید کرتے تھے جس میں سنکیانگ میں تشدد کی ذمہ داری اویغور برادری پر ڈالی جاتی ہے۔
چین میں اویغور افراد کی مسلح تحریک کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے
اویغور زیادہ تر مسلمان ہیں اور خود کو وسطی ایشیا سے قریب تر تصور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں ہان چینیوں کی سنکیانگ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر بھی اعتراض ہے۔
دوسری جانب بیجنگ کا کہنا ہے کہ اویغور دہشت گرد علیحدگی کی پرتشدد تحریک چلا رہے ہیں۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…