سنیچر کو عصمت اللہ معاویہ کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک وڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ علماء اور عمائدین سے تفصیلی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں عسکری کارروائیاں ترک کردی گئی ہیں تاہم اسلامی وقار، نظام کےتحفظ اور بقاء کی خاطر شرعی خطوط پر دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دشمنان اسلام کے خلاف جہادی کردار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
تقریباً تین منٹ کے اس وڈیو پیغام میں پنجابی طالبان کے امیر نے کہا کہ اسلام اور قوم کے وسیع تر دینی مفادات میں یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔
انھوں نے حکومت اور قبائل میں موجود طالبان تنظیموں سے اپیل کی کہ فریقین امت مسلمہ کی مفادات کی خاطر مذاکرات کی میز پر آئیں اور وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
عصمت اللہ معاویہ نے حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ متاثرین آپریشن کی بحالی کے لیے اقدامات کئے جائیں اور قبائلی خودار عوام کو دشمنوں کی گود میں ڈالنا دانشمندی نہیں بلکہ ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔
انھوں نے افغانستان جانے والے قبائلی عوام سے ملک واپس آنے کی اپیل کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحد پار جانے والے متاثرین کی واپسی کےلیے سہولیات فراہم کی جائے۔
خیال رہے کہ تحریک طالبان پنجاب خود کو تحریک طالبان پاکستان کا حصہ سمجھتی ہے اور یہ تحریک پنجابی طالبان کے نام سے بھی جانے جاتی ہے۔ ماضی میں اس تنظیم اور ٹی ٹی پی کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد ایسی اطلاعات بھی آئی تھیں کہ عصمت اللہ معاویہ کو تنظیم سے نکالا دیا گیا ہے تاہم بعد میں یہ اختلافات ختم ہوگئے تھے۔
عصمت اللہ معاویہ کے تازہ بیان پر تاحال تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
بی بی سی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…