امریکی صحافیوں کا بہیمانہ انداز میں قتل ڈراما تھا؟

الجزیرہ نیوز چینل نے ایک رپورٹ میں داعش کے ہاتھوں حال ہی میں دو امریکی صحافیوں جیمزفولی اور اسٹیون سوٹلوف کے بہیمانہ انداز میں قتل کا مضحکہ اڑایا ہے اور کہا ہے کہ ہالی وڈ طرز کے اس طرح کے شو کو شام میں مغرب کی فوجی مداخلت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

الجزیرہ نے اپنی اس رپورٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دونوں امریکی صحافیوں کو ہالی وڈ کے ایک اسٹیج شو کے سے انداز میں قتل کیا گیا تھا حالانکہ امریکی حکومت ان ویڈیوز کے حقیقی ہونے کی تصدیق کرچکی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی ویب سائٹ پر ”رپورٹس اور انٹرویوز” کے سیکشن میں یہ رپورٹ جمعرات کو پوسٹ کی تھی اور اس میں لکھا ہے کہ ”جیمز فولی نے حقائق کو مسخ کیا ہے۔اس کے سرقلم ہونے کی ویڈیو میں ناظرین کی توجہ ایک اہم چیز کی جانب مرکوز ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ فولی مقتول نہیں بلکہ ایک چیمپئن کا کردار ادا کررہا تھا۔وہ ایک لمبے چوڑے بیان کو بڑے اطمینان کے ساتھ پڑھتا ہے اور اس کی آنکھوں کے اشاروں سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ سامنے کسی اسکرین سے عبارت پڑھ رہا ہے اور اس کو خود کار طریقے سے چلایا جارہا ہے”۔
رپورٹ میں نقاب پوش قاتل کے بارے میں بھی شُبے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس کے نقوش ونگار عام جہادی کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ ہالی وڈ کا ایک اداکار نظر آرہا ہے۔ اپنے اس دعوے کے حق میں کہ دونوں صحافیوں کے سرقلم کرنے کا ڈراما اسٹیج کیا گیا ہے،الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مقتول کی گردن پر چھے مرتبہ چاقو چلایا جارہا ہے۔فلم میکر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ صحافی کا شاٹ کٹ ہونے کے بعد سرقلم کیا گیا تھا اور دوسرے شاٹ میں اس کی سربریدہ لاش اور سر الگ پڑے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دوسرے صحافی سوٹلوف کی ویڈیو کو دیکھنے کے بعد بھی یہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس کے چہرے پر بھی فولی کی طرح بیان پڑھتے ہوئے خوف کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔
اس میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ جیمز فولی کو تو 2012ء میں اغوا کیا گیا تھا لیکن وہ دولت اسلامی عراق وشام کے ہتھے کیسے چڑھ گیا تھا۔اس کو قتل کرنے والے شخص کے بارے میں بھی شُبے کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک نامعلوم ”کارکن” کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیمز فولی ماضی میں امریکی محکمہ خارجہ کے لیے کام کرتا رہا تھا اور اس ناتے سے اس کے انٹیلی جنس کے ساتھ بھی روابط ہوسکتے تھے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ویڈیوز کو شام میں فوجی مداخلت کے لیے اسی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے یا کیا جائے گا جس طرح سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملے کے لیے سابق صدر صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو استعمال کیا تھا اور ان کا واویلا کر کے عراق کی اینٹ سے اہنٹ بجا دی تھی۔
العربیہ نیوز نے جب الجزیرہ کے ایک ترجمان سے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کو اس حوالے سے کوئی بات کرسکتے ہیں۔
لبنان سے تعلق رکھنے والی ایک مبصر مجدہ ابو فضیل کا کہنا ہے کہ ”سوال یہ ہے کیوں؟ اگر ان کے دعوے کے مطابق یہ سب کچھ ڈراما سٹیج کیا گیا ہے تو کیا اس کا ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے کیونکہ عدالت میں تو ٹھوس ڈیٹا کی ضرورت ہوگی اور واقعاتی شواہد اپنا کیس ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ”میرے پاس فی الوقت فولی اور سوٹلوف کے بہیمانہ قتل کی ویڈیوز کو درست ماننے یا ان کو رد کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن میں یہ کہ سکتی ہوں کہ گذشتہ ہفتے ہمیں دولبنانی شہریوں کی سربریدہ لاشوں کے بارے میں پتا چلا تھا۔انتہا پسند جنگجوؤں نے ان کے سرقلم کردیے تھے اور ان کی لاشیں ان کے خاندانوں کے حوالے کی گئی تھی۔اب ان کے پیاروں کو یہ کہنا تو بہت ہی ظالمانہ روش ہوگی کہ ان کے قتل کا ڈراما اسٹیج کیا گیا تھا”۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago