مرشد عام پر الزام تھا کہ انہوں نے کم از کم نو افراد کا قتل کیا اور 21 دوسروں کو زخمی کیا تھا۔ واضح رہے محمد مرسی کی برطرفی کے بعد فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی نے استعفی دے کر ملک کا صدر بننا پسند کیا۔ جبکہ مرسی اور ان کے ہزاروں ساتھی جیلوں مں بند کر دیے گئے اور سینکڑوں زیر زمین چلے گئے۔
معزول صدر مرسی بھی ان دنوں باہر کے ملکوں کے ساتھ ساز باز کرنے اور اشتعال پر اکسانے کے الزام میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبکہ مصری سکیورٹی فورسز اخوان کے سینکڑوں کارکنوں کو احتجاج کرنے پر ہلاک کر چکی ہیں۔
مصری پراسیکیوٹر نے تمام ملزمان پر قتل اور اقدام قتل کے الزامات سمیت تشدد پر ابھارنے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا۔ جبکہ اخوان اور اس کے رہنماوں کا موقف ہے کہ وہ ملک میں سیاسی تبدیلی کے لیے طویل عرصے سے کوشاں ہیں اور ان کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عدالت نے یہ موقف مسترد کرتے ہوئے مرشد عام محمد بدیع محمد البلتاجی، عصام الریان سمیت مرسی حکومت کے متعدد ذمہ داران کو سزائے عمر قید سنائی ہے۔
اس سے پہلے ماہ جون میں مرشد عام اخوان المسلمون محمد بدیع اور ان کے ایک سو بیاسی رفقاء کو ایک مصری عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں ماہ جولائی میں بھی عدالت نے اخوان کے مرشد عام کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان