برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ہفتے کے روز اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسلامی انقلابیوں نے شہر کے قدیم حصے میں واقع الزہراوی مارکیٹ میں سرنگ کو دھماکے سے اڑایا ہے۔
صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کے خلاف جنگ لڑنے والے شامی انقلابیوں کے اتحاد محاذ اسلامی نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کا لنک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں ایک زوردار دھماکا ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملبے سے گرد اور دھواں بلند ہو رہا ہے۔
آبزرویٹری کے مطابق دھماکے کے بعد شامی فوج اور انقلابیوں کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی تھی جس میں ایک انقلابی مارا گیا ہے۔ واضح رہے کہ محاذ اسلامی نے حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ فوجیوں پر حملوں کے لیے سرنگوں کے ذریعے دھماکے کیے ہیں۔
حلب کے تاریخی قدیم حصے میں شامی فوج اور انقلابی جنگجوؤں کے درمیان کم وبیش روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں ہورہی ہیں اور فوج نے جگہ جگہ پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔حلب میں جولائی 2012ء سے اسدی فوج اور انقلابیوں کے خلاف شدید لڑائی ہو رہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…