غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کی رات ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کے علاقے گومتی پور میں شادی کی تقریب کے دوران دو گاڑیوں کے درمیان ٹکر ہوگئی ، معمولی ٹریفک حادثہ دیکھتے ہی دیکھتے مسلم کش فسادات کی شکل اختیار کرگیا اور انتہا پسندہندوؤں نے کئی دکانوں، ایک بس اور دیگر املاک کو آگ لگادی۔ پولیس نے شر پسندوں پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔ احمد آباد کے جوائنٹ پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ شہر میں امن و امان کی صورت حال قابو میں ہے تاہم علاقے میں کشیدگی کی فضا برقرار ہے اور مسلمانوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 2002 میں نریندر مودی ہی کی وزارت اعلیٰ میں گجرات میں انتہا پسند ہندوؤں نے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید اور درجنوں خواتین کی عصمت دری کی تھی اس کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کی املاک کو بھی تباہ کردیا گیا تھا۔
ایکسپریس نیوز
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…