مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ صبح سویرے میران شاہ اور میر علی کے قریبی علاقوں میں مخصوص مقامات پر بمباری کی گئی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق 32 عسکریت پسند جاں بحق ہوئے ہیں اور ان میں بعض اہم کمانڈرز شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ان کے پاس مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ پشاور میں متاثرین کے کیمپ، مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی اور میران شاہ کے قریب سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث افراد ان علاقوں میں روپوش ہیں جہاں تازہ کارروائی کی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق نیم شب کے وقت بڑی تعداد میں جنگی طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں داخل ہوئے اور پھر بعض ٹھکانوں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ لوگوں کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان حملوں میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
شمالی وزیرستان ایجنسی میں اب تک کی یہ بڑی فوجی کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔ دو ماہ پہلے بھی میر علی اور میرانشاہ کے قریب علاقوں بمباری کی گئی تھی جس میں ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
ہلاکتوں کے بارے میں یہ اختلاف بھی پایا جاتا تھا کہ آیا جاں بحق ہونے والے عسکریت پسند ہیں اور یا عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ان حملوں میں عسکریت پسندوں سمیت بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
بی بی سی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…