پچھلے سال ایسی ہی ایک بھوک ہڑتال کے دوران 166 میں سے 46 قیدیوں کو زبردستی خوراک دی گئی تھی جبکہ متعدد پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔
امریکی ضلعی عدالت کی جج گلیڈیز کیسلر نے امریکی حکومت کو ابو وائل الضِاب کے حوالے حکم دیا ہے کہ اسے 21 مئی تک زبردستی خوراک نہ دی جائے۔ واضح رہے اگلی سماعت 21 مئی کو متوقع ہے۔ عدالت نے قیدی کو جیل میں بنے اس کے سیل سے بھی اس مقصد کیلیے نکالنے سے روک دیا ہے۔
جج نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگلی سماعت تک حکومت زبردستی سیل سے نکالنے اور خوراک دینے کے ویڈیو ٹیپس محفوظ رکھے۔ واضح رہے انسانی حقوق کیلیے سرگرم وکلاء اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کسی کو زبردستی خوراک دینا انسانی اور اخلاقی طور درست نہیں ہے۔
خیال رہے بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو ناک کے ذریعے مشروبات وغیرہ دیے جاتے ہیں۔ محکمہ دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ٹاڈ بریسیلی نے عدالتی حکم پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پچھلے سال جولائی میں واشنگٹن ڈی سی کی جج نے ایسی درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا اس معاملے میں صرف صدر اوباما ہی مداخلت کر سکتے ہیں۔
تاہم ماہ فروری میں کولمبیا کی عدالت نے ایک اپیل کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ گوانتا ناموبے جیل کے قیدیوں کو حق ہے کہ وہ ایسے فوجیوں کیخلاف مقدمہ کر سکیں جو انہیں زبردستی خوراک دیں اور عدالت کو اس بارے میں درخواستیں سننے کا حق ہے۔ قیدی ضیاب کے وکیل نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے ایک اہم موڑ قرار دیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار