صنعا سے العربیہ کے نمائندے حمود منصور نے عینی شاہدین کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حملے کے بعد صدارتی محل کے آس پاس سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں۔اس دوران ایک سرکاری عمارت کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔
یمن کے ایک عسکری ماہر محسن خدروف نے صدارتی محل پر حملے کو سکیورٹی فورسز کی جنوبی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا ردعمل قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو اب بھی دارالحکومت صنعا سمیت ملک میں کسی بھی علاقے میں حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
قبل ازیں القاعدہ کے جنگجوؤں نے جنوبی صوبہ شیبوۃ کے علاقے محفد میں یمنی وزیردفاع محمد ناصر أحمد کے موٹر کیڈ پر حملہ کیا تھا۔تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔وہ جنوبی صوبے ابین سے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف فوج کی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد واپس آرہے تھے۔
یمنی وزیردفاع کے قافلے پر حملے کے بعد فوج نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں ایک سعودی سمیت تین حملہ آور ہلاک اور دو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔جھڑپ میں تین فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔القاعدہ کے مہلوکین میں ایک چیچن جنگجو بھی شامل ہے۔
گرفتار کیے گئے دونوں افراد فرانسیسی شہری ہیں اور ان کے نام مراد عبداللہ عبد اور طہٰ العیساوی بتائے گئے ہیں۔یہ دونوں فرانسیسی یمن کے ایک ہوائی اڈے کے ذریعے بیرون ملک فرار کی کوشش کررہے تھے۔
یمنی فوج گذشتہ ایک ہفتے سے جنوبی صوبوں ابین اور شیبوۃ میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہے۔اس کو یمن اور امریکا کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔جمعہ کو بھی امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے محفد کے پہاڑی علاقے میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر میزائل فائر کیے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام