غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رکن پارلیمنٹ اور واقعے کے عینی شاہد احمد زنا نے بتایا کہ ’’گمبورو نگالا‘‘ گاؤں میں تعینات فوجیوں کو اسکول سے اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو بچانے کی غرض سے دوسرے مقام پر تعینات کردیا گیا تھا جس کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند تنظیم کے کارندے کار اور موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر آئے اور انہوں نے گاؤں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں کئی مکانات تباہ اور علاقے کی مشہور مارکیٹ سمیت ثقافتی اور معاشی مراکز کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب لوگ اپنی جان بچانے کے لئے وہاں سے نکلے تو حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔
دوسری جانب نائجیرین پولیس نے 14 اپریل کو اسکول سے اغوا کی جانے والی 200 سے زائد لڑکیوں کی تلاش اور بازیابی میں مدد کرنے والے کے لئے 3 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا نے بھی ماہرین کی ایک ٹیم نائجیریا بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو مغوی لڑکیوں کی بازیابی کی کوششوں میں مدد دے گی۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام