مقامی ویب سائٹ ’سنت آن لائن‘ کے مطابق مولوی اسماعیل محمدی اہل خانہ سمیت ایک دینی مجلس میں شرکت کی غرض سے ’سوران‘ سے ’گُشت‘ (Gosht) کی جانب جارہے تھے کہ راستے میں ان کی کار الٹ گئی جہاں مولوی محمدی اور ان کی اہلیہ جاں بحق ہوگئے جبکہ بیٹے زخمی ہوچکے ہیں۔
مولوی اسماعیل ولد مولوی احمد نے دارالعلوم گشت میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم زاہدان میں تعلیم جاری رکھی۔ 1428ہ۔ق (2007ئ) میں فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ نے ضلع سراوان کے علاقہ ’سوران‘ میں تدریسی وتبلیغی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ کا شمار علاقے کے سرگرم علمامیں ہوتا تھا جہاں آپ سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کے لیے خصوصی کلاسز کا اہتمام کرتے اور ان کی دینی تربیت کے لیے کوشاں رہتے تھے۔
مولوی اسماعیل محمدی کی نماز جنازہ میں ایرانی بلوچستان کے ممتاز علمائے کرام اور سماجی شخصیات نے شرکت کی جبکہ شیخ التفسیر مولانا محمدعثمان قلندرزہی اور حافظ محمدکریم صالح نے عوام سے خطاب بھی کیا۔
سنی آن لائن ٹیم اس افسوسناک سانحے پر مولوی اسماعیل اور ان کی اہلیہ کے اعزہ و اقارب اور شاگردوں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالی سے دلی دعا ہے مرحومین کو جنت الفردوس میں خاص مقام عطا کرکے پس ماندگان کو صبرجمیل نصیب فرمائے، آمین۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار