حکام کے مطابق بحری جہاز سے ہنگامی صورتحال کا سگنل ارسال کیا گیا تھا جس کے بعد امدادی کشتیاں روانہ کی گئي ہیں اور ہیلی کاپٹرز بحری جہاز تک پہنچ گئے ہیں اور مسافروں کو جہاز سے اتارنا شروع کر دیا ہے۔
کوسٹ گارڈ فورسز کے ترجمان نے خبر رساں ادارے ایف پی کو فون پر بتایا کہ ’کشتی میں پانی بھر رہا ہے اور وہ ڈوب رہی ہے۔ ہمارے پاس یہاں كوسٹگارڈ بحری جہاز، تجارتی بحری جہاز ہیں، ہیلی کاپٹرز بھی ہیں اور یہ تمام امدادی کاموں میں لگے ہیں۔‘
حکام نے بتایا ہے کہ اس بحری جہاز پر سوار مسافروں میں زیادہ تر سکنڈری سکول کے طلبہ ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ جہاز پر 350 افراد ہیں۔
سکیورٹی اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے نائب وزیر لی گيونگ نے تصدیق کی ہے کہ 110 مسافروں کو بچا لیا گيا ہے۔
امدادی کاموں میں بحریہ، کوسٹ گارڈز کے کل 34 جہاز لگے ہیں جن میں شہری جہاز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 18 ہیلی کاپٹرز بھی وہاں تعینات ہیں۔
جنوبی کوریا کے ٹی وی نیوو چینل وائے ٹی این نے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے ایک زور کی ٹکر کی آواز سنی اور جہاز رک گیا۔ جہاز اس قدر ترچھا ہو رہا ہے کہ ہمیں اپنی سیٹ میں رہنے کے لیے کچھ پکڑ کر بیٹھنا پڑا رہا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق رفتہ رفتہ غرق ہونے والی کشتی نے سمندر میں ساحل سے 20 کلو میٹر دور بيونگپونگ جزائر سے خطرے کا سگنل دیا تھا۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان