جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان مولانا جان محمد اچکزئی نے کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے وزراء نے استعفے حکومت کو پیش کر دیے ہیں۔اگرچہ اب بھی مذاکرات کے دورازے کھلے ہیں اور گیند اب پی ایم ایل کی کورٹ میں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے رواں سال جنوری میں حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ان کا کہنا تھاکہ حکومت نے ان کی جماعت کو گذشتہ چار ماہ میں ہونے فیصلوں میں اعتماد میں نہیں لیا۔ انھوں نے کہا حکومت نے جے یو آئی کو تحفظ پاکستان آرڈینینس اور نیشنل سکیورٹی پالیسی کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تحفظِ پاکستان آرڈینینس کے حوالے سے تقریباً تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا تھا اور یہ طے پایا تھا کہ دونوں جماعتوں کے وکلا کی ملاقات ہو گی اور اس قانون میں ترامیم تجویز کی جائیں گی جنہیں حکومت مسودے کا حصہ بنائےگی۔ انھوں نے کہا “بدقسمی سے ایسا نہیں ہوا۔‘
انھوں نے کہا نیشنل سکیورٹی پالیسی کی تیاری میں ان کی جماعت سے مشاورت نہیں ہوئی ہے۔ اس پالیسی میں مدرسوں کو ایک خطرہ کے طور پر پیش کیاگیا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے اپنے تخفطات حکومت کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ اگر حکومت جے یو آئی کے تحفظات کو دور کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے وگرنہ وہ حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے۔
ٹی آر ٹی اردو
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید