یہ بات انہوں نے جمعے کے روز اسلام آباد میں بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہی۔
اختر مینگل نے کہا کہ انہوں نے یہ بات وزیراعظم نواز شریف کو بھی گزشتہ روز ایک ملاقات میں بتا دی ہے۔
’وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ رواں برس بلوچستان میں تبدیلیوں کا سال ہوگا اور وہاں سیاسی طور پر نمایاں بہتری نظر آئے گی۔‘
صوبائی رکن اسمبلی نے کہا کہ انھوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ ان تبدیلیوں کے منتظر تو ہیں لیکن شاید ان کی جماعت پورا سال ان کا انتظار نہ کرے اور اس سے پہلے ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے الگ ہو جائے۔
سردار اختر مینگل نے چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کرنے کے بعد پچھلے سال ہونے والے عام انتخابات میں مشروط طور پر حصہ لیا تھا۔ ان کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی نے ان انتخابات میں دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی۔ دھاندلی کے الزامات کے بعد اختر مینگل نے بطور احتجاج ان نتائج کو تسلیم کیا تھا۔
اختر مینگل نے کہا کہ انھیں میاں نواز شریف کی حکومت سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئی ہیں۔
انھوں نے تلخی سے بھرے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ ’پچھلے دور حکومت میں علیحدہ علیحدہ لاشیں ملتی تھیں، اس حکومت نے یہ سہولت کر دی ہے کہ اجتماعی قبریں ملنے لگی ہیں تاکہ لواحقین کو انھیں تلاش کرنے اور دفنانے میں زیادہ دقت نہ ہو۔‘
علیحدگی پسند بلوچ رہنماؤں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کی کوششوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچ حکومت کوئٹہ اور اسلام آباد میں ہوتے ہوئے ان (اختر مینگل) کے ساتھ مذاکرات تو کر نہیں رہی، پہاڑوں میں روپوش مسلح افراد سے کیسے بات کرے گی۔
’سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت ان ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات مسائل حل کرنے کے لیے کرنا چاہتی ہے یا محض دکھاوے کے طور پر۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ حکومت اور ناراض بلوچوں کے درمیان مذاکرات میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔
’جب میرے جیسے جمہوریت پسند کہ جس کے ہاتھ میں بیلٹ پیپر ہے، اگر اس کے ساتھی کی مسخ شدہ لاش ابھی تک مل رہی ہے، تو میں اس کو مذاکرات پر کیسے قائل کر سکتا ہوں جس کے ہاتھ میں بندوق ہے۔‘
طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے بلوچ سردار نے کہا کہ یہ مذاکرات اپنے پرائے کا فرق واضح کرتے ہیں۔
’طالبان کو وہ اپنا سمجھتے ہیں اس لیے گلے شکوے بھی کرتے ہیں اور بات چیت بھی۔ ہم غیر ہیں۔‘
آصف فاروقی
بی بی سی اردو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید