ساون مسیح پر الزام تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس اپنے مسلمان دوست سے جھگڑے کے دوران پیغمبرِ اسلام کے بارے میں گستاخانہ کلمات ادا کیے تھے۔ اس واقعے پر مشتعل ہو کر ہزاروں افراد نے لاہور کی مسیحی آبادی جوزف کالونی پر دھاوا بول کر 100 سے زائد مکانات کو جلا دیا تھا۔
ساون مسیح کے وکیل ایڈوکیٹ طاہر بشیر نے بتایا کہ عدالتی فیصلے میں 295 پی پی سی کے تحت ان کے موکل کو سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے اور اگر وہ یہ جرمانہ ادا نہیں کر پاتے تو پھر انھیں چھ ماہ قید کاٹنی ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں فیصلے کی کاپی موصول ہو گئی ہے اور اب وہ سات دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ طاہر بشیر کا کہنا تھا کہ ’عدالت بااختیار ہے لیکن میرے خیال سے اس مقدمے میں بھی توہین عدالت کے دیگر مقدمات کی طرح بہت زیادہ دباؤ تھا۔‘
اس مقدمے کا آغاز آٹھ مارچ 2013 کو پیش آنے والے ایک واقعے کے باعث ہوا تھا جس میں جوزف کالونی کے رہائشی بچپن کے دو دوستوں ساون مسیح اور شاہد عمران کے درمیان سنوکر کھیلتے ہوئے جھگڑا ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے بات ایسی بڑھی کہ ساون پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا۔
پاکستان میں کسی مسیحی آبادی پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا اور ماضی قریب میں گوجرہ اور شانتی نگر میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن آج تک نہ تو ان واقعات سے متعلق حقائق منظرخ عام پر آسکے اور نہ ہی کسی کو ذمےدار ٹھہرا کر سزا دی گئی ہے۔
العربیہ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…