یوکرین بحران: کیری اور پوتن کی ملاقات منسوخ

امریکی حکام کے مطابق امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے اس وقت تک ملنے سے انکار کیا ہے جب تک روس یوکرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے امریکی تجاویز پر عمل نہیں کرتا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب کو بتایا ہے کہ روس کی جانب سے کرائمیا کے خطے میں مداخلت نے بات چیت کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر روس سے الحاق کے لیے کرائمیا میں آئندہ اتوار کو مجوزہ ریفرینڈم کروایا گیا تو بات چیت کے لیے موضوعات کم رہ جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں روس کے خلاف سخت پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔
اس سے پہلے نیٹو نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین کی سرحدوں کی نگرانی کے لیے اواکس طیاروں کو رومانیہ اور پولینڈ میں تعینات گیا ہے تاکہ اتحادی ممالک بدلتی صورتحال سے بروقت آگاہ ہو سکیں۔
نیٹو کے اہلکار کے مطابق نگرانی کے لیے پروازیں صرف اتحادی ممالک کے علاقوں پر کی جائیں گی۔
ادھر بحران پر بات چیت کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا دس روز میں پانچواں اجلاس ہو رہا ہے۔
یوکرین میں یورپ کے حامیوں کی طرف سے روسی کے حامی صدر یانوکووچ کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے بعد روس نے یوکرین کے روسی آبادی والے جزیرہ نما کرائمیا میں اپنے فوجی بھیجوا دیے ہیں اور وہاں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔
کرائمیا کی اسمبلی پہلے ہی روس کے ساتھ الحاق کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کے علاوہ کرائمیا کے عوام چند روز میں ایک ریفرنڈم میں حصہ لینے والے ہیں جس میں ان سے پوچھا جائےگا کہ کیا وہ روس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔
امریکہ اور مغربی ممالک روس پر زور دے رہے ہیں کہ روس یوکرین کے علاقے سے نکل جائے۔
نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ نیٹو طیاروں کو پولینڈ اور رومانیہ میں تعینات کرنے کا فیصلہ سوموار کو ہوا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اواکس طیاروں کی پروازیں اتحادی ممالک کی خلائی حدود میں ہوں گی۔
پیر کے روز کرائمیا میں موجود مسلح افراد، جن کےبارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ روسی فوجی ہیں ، انھوں نے کرائمیا کے ایک ہسپتال پر قبضہ کر لیا ہے۔
ادھر روس کے حامی فوجیوں نے یوکرین کے فوجیوں کو کرائمیا میں روک رکھا ہے۔
روس نے سرکاری طور ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس کے فوجی یوکرین کے فوجیوں کو کرائمیا میں نقل و حرکت سے روک رہے ہیں۔
یوکرین کی نئی حکومت، یورپی یونین اور امریکہ نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے یوکرین میں دراندازی کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
گزشتہ ہفتے یورپی یونین نے کہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعاون کے معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago