غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد اقصیٰ جانے والے 50 سال سے کم عمر فلسطینیوں پر مسجد کے اندر داخلے پر پابندی لگادی ہے اورصیہونی حکام نے یہ فیصلہ منگل کو مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم کی وجہ سے کیا ۔ اسرائیلی پولیس کے ترجمان کے مطابق حکومتی فیصلے کے بعد اب نماز جمعہ کے دوران 50 سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کو مسجد کے احاطے کے باہر ہی محدود رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی پارلیمنٹ مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت دینے کے حوالے سے بحث کی تیاری کررہی ہے، اسرائیلی فیصلے کی وجہ سے عالم اسلام میں غم وغصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی اس بحث کی سخت مذمت کرتے اسے اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس پر قبضے کا منصوبہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب صیہونی ریاست کے اس فیصلے کے خلاف اردن کی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی سفیر کو فوری طورپر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہےجب کہ اردنی وزیراعظم نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا کوئی بھی فیصلہ کیا گیا تو ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر نظرثانی کرے گا۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان