کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق خواتین نے بسوں میں گانے بجانے کی شکایت کی تھی جس کے بعد جمعرات سے اس کے خلاف باقاعدہ طور پر مہم شروع کی گئی ہے۔
حکام نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مہم طالبان کی جانب سے دھمکیوں کے باعث شروع کی گئی ہے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق گانا بجانے کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں۔
کراچی ٹریفک پولیس کے سربراہ عارف حنیف نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹریفک پولیس کو کسی سے دھمکی نہیں ملی، یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں۔
‘ہمیں خواتین مسافروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں اور کسی سے نہیں’۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے کیونکہ قانوناً پبلک ٹرانسپورٹ میں چلانے کی ممانعت ہے۔
تقریباً دو کرور آبادی کے حامل میٹروپولیٹن شہر میں بس، رکشا اور ٹیکسی سمیت کئی طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ چلتی ہے۔
جو ڈرائیور بھی گانا چلاتے پکڑے گئے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ ان کا میوزک پلیئر بھی ضبط کر لیا جائے گا۔
ڈان نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان