غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ثقافتی مرکز کے باہر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد فائرنگ بھی شروع ہوگئی اور کچھ ہی دیر بعد دوسرے حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑالیا، دھماکوں کے بعدعلاقے میں بھگڈر مچ گئی جب کہ اس دوران انسانی اعضا بھی ہرطرف بکھر گئے، وزارت صحت کے مطابق خود کش دھماکوں میں 5 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ زخمیوں میں سے بھی متعدد کی حالت تشویشناک ہے ۔
دوسری جانب القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ’’عبداللہ اعظم بریگیڈ‘‘ نامی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے اگرا ایران کی حکومت نے فوری طورپرلبنان میں موجود اپنی فورسز کو واپس اورہمارے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو آئندہ بھی اس طرح کے دھماکے کئے جائیں گے۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید