غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ثقافتی مرکز کے باہر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد فائرنگ بھی شروع ہوگئی اور کچھ ہی دیر بعد دوسرے حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑالیا، دھماکوں کے بعدعلاقے میں بھگڈر مچ گئی جب کہ اس دوران انسانی اعضا بھی ہرطرف بکھر گئے، وزارت صحت کے مطابق خود کش دھماکوں میں 5 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ زخمیوں میں سے بھی متعدد کی حالت تشویشناک ہے ۔
دوسری جانب القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ’’عبداللہ اعظم بریگیڈ‘‘ نامی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے اگرا ایران کی حکومت نے فوری طورپرلبنان میں موجود اپنی فورسز کو واپس اورہمارے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو آئندہ بھی اس طرح کے دھماکے کئے جائیں گے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان