ڈنمارک کے وزیر خوراک کا حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے متنازعہ بل کے حوالے سے کہنا تھا کہ جانوروں کے حقوق مذہب سے بالاتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا جانوروں کے ذبح کرنے پر پابندی کا فیصلہ انہیں اذیت سے بچانے کے لئے ہے تاہم مذہبی گروپوں نے ڈینش حکومت کے فیصلے کو مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
ڈینش حلال گروپ کی جانب سے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے 13 ہزار افراد کے دستخط کے ساتھ سے عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ ڈینش حلال گروپ کا کہنا تھا کہ دراصل یہ پابندی جانوروں پر نہیں بلکہ مسلمان اور یہودیوں کے مذہبی معاملات پر لگائی گئی۔ دوسری جانب اسرائیل کے مذہبی امور کے نائب وزیر نے بھی ڈنمارک حکومت کی جانب سے جانوروں کے ذبح کرنے پر پابندی کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینش حکومت کے فیصلے سے یورپ کا مذہب کے خلاف چہرہ عیاں ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ یورپی قوانین کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے بے ہوش کرنا لازم ہوتا ہے تاہم مذہبی بنیادوں پر جانوروں کو بغیر بے ہوش کئے ذبح کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کے باوجود ڈنمارک کی حکومت نے جانوروں کے ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار