کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے محمد کاظم کے مطابق متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی سہ پہر تین بج کر دس منٹ پر پانچ سرکاری اور ایک قبائلی شخصیت کو تربت کے علاقے گومازی سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افراد کی بازیابی کے لیے جانے والے چھ افراد پر مشتمل اس قافلے میں اسسٹنٹ کمشنر دشت نعیم گچکی، نائب تحصیلدار بلیدہ رفیق احمد، تحصیلدار دشت کھڈان، احمد علی، نائب رسالدار لیویز فورس بشام بلوچ، سپاہی لیویز فورس جمیل احمد اور ایک قبائلی شخصیت شامل ہیں۔
یاد رہے گذشتہ روزکلِکاسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت کئی لیوز اہل کاروں کو تمپ کے علاقے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہ لوگ گاڑیوں کے قافلے میں ایران کی سرحد سے لوٹ رہے تھے۔
لیویز حکام کے مطابق گذشتہ روز اغوا ہونے والے تمام لیوز اہل کاروں کو رہا کر دیا گیا لیکن ان کے ہمراہ اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کشمنر تاحال اغوا کاروں قبضے میں ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان