Categories: پاکستان

مذاکراتی کمیٹی کی طالبان سے مشاورت مکمل

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی نمائندہ کمیٹی کے دو رکنی وفد اور طالبان رہنماؤں کے درمیان جاری مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (س) اور طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ذاتی معاون سید احمد شاہ نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ قبائلی علاقے وزیرستان ایجنسی میں نامعلوم مقام پر طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے دو رکنی وفد اور طالبان کی قیادت کے درمیان بات چیت مکمل ہوگئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ طالبان سے ملاقات کے لیے جانے والے دونوں اراکین پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ پیر کو پشاور پہنچ جائیں گے۔
اتوار کو دوسرے روز کے مشاورتی اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق سے فون پر بات بھی کی۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے مذاکراتی ٹیم کی واپسی میں تاخیر کے بارے میں استفسار کیا جس پر مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں کی پروازوں کے باعث مشاورت کا مقام بار بار تبدیل کرنا پڑا جس کے باعث تاخیر ہوئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کو سبوتاژ کرنا، پاکستان دشمنی کے مترادف ہو گا۔‘
مولانا سمیع الحق کے ذاتی معاون سید احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکراتی وفد کے دونوں اراکین مولانا سمیع الحق کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ پیر تک ان کے پاس پہنچیں گے۔
تاہم انھوں نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ کمیٹی کے اراکین کی طالبان شوریٰ کے ساتھ ملاقات ختم ہو گئی ہے ان کے واپس لوٹنے پر طالبان کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔‘
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ترجمان یوسف شاہ پر مشتمل مذاکراتی وفد طالبان سے بات چیت کے لیے سنیچر کو روانہ ہوا تھا۔
احمد شاہ کا کہنا تھا کہ دو رکنی وفد کو سنیچر کی صبح آٹھ سے نو بجے کے درمیان ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہلے پشاور اور پھر میران شاہ تک پہنچایا گیا۔
’طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو میران شاہ میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر تک پہنچایا گیا جس کے بعد طالبان انھیں اپنے طور پر نامعلوم مقام پر لے گئے۔‘
دوسری جانب حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی کا کہنا ہےکہ ابھی تک طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور ہم اس کے منتظر ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ ’انھوں نے ہیلی کاپٹر کی سہولت مانگی تھی جو انھیں دی گئی۔ تاہم اس کے بعد سے ہم مولانا سمیع الحق کی جانب سے رابطے اور وفد کی واپسی کے منتظر ہیں کہ وہ آئیں اور بات چیت آگے بڑھائی جائے۔‘
حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان گذشتہ جمعرات کو پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تھی جس میں حکومت کی جانب سے پانچ اور طالبان کمیٹی کی جانب سے تین نکات سامنے آئے تھے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago