Categories: مشرق وسطی

جنیوا مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی:الاخضر الابراہیمی

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضرالابراہیمی نے کہا ہےکہ جنیوا میں منگل کو متحارب شامی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے دوران کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

شامی حکومت اور حزب اختلاف کے وفد کے درمیان مذاکرات میں صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے واضح اختلاف رائے پایا جاتا ہے جس کے پیش نظر الاخضرالابراہیمی نے منگل کی سہ پہر کا سیشن منسوخ کردیا ہے تاکہ شام کے سرکاری مذاکرات کار جنیوا اول پر مزید غور کرکے کوئی فیصلہ کرسکیں۔
حزب اختلاف کے ایک مذاکرات کار احمد جکال نے پہلے سیشن کی بات چیت کے بعد بتایا کہ ”شامی رجیم کی جانب سے عبوری حکومت کے قیام کے سوال پر شدید مزاحمت کی جارہی ہے”۔
الابراہیمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”شام کا سیشن منسوخ کرنے کا فیصلہ مذاکرات کاروں کے درمیان باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے۔اس ضمن میں مجھ پر کوئی دباؤ نہیں تھا”۔
شامی حکومت اور حزب اختلاف کے وفود نے جنیوا میں مذاکرات کے پانچویں روز انتقال اقتدار اور محاصرے کا شکار شہر حمص میں امدادی سامان پہنچانے پر تبادلہ خیال کیا ہے لیکن شامی صدر بشارالاسد کی رخصتی اور ایک عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی کے بنیادی ایشو کو طے کرنے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
شام کے سرکاری وفد کو امریکا کی جانب سے باغی جنگجوؤں کی امداد پر بھی غصہ تھا۔شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل المقداد نے اس کو امریکا کی جانب سے دہشت گردوں کی امداد کا ایک اظہاریہ قراردیا ہے۔انھوں نے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا:”اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکا کو جنیوا میں جاری عمل کی کامیابی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس کو اب اس دعوے سے باز آجانا چاہیے کہ اس کو اس کانفرنس سے کوئی دلچسپی ہے”۔
امریکی حکام نے سوموار کو اطلاع دی تھی کہ شامی حزب اختلاف کو امریکا کی جانب سے غیرمہلک امداد کی فراہمی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔امریکا نے گذشتہ ماہ القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے شامی باغیوں کے گوداموں پر قبضے کے بعد یہ امداد روک دی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مواصلاتی آلات اور دوسری اشیاء حزب اختلاف کے غیر مسلح گروپوں کو مہیا کی جارہی ہیں مگر اس سے شام کے باغی جنگجوؤں کو تقویت ملی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی صفوں میں انتہا پسندوں کی موجودگی کے پیش نظر ان کی بین الاقوامی حمایت میں کمی واقع ہوئی تھی۔
حزب اختلاف نے مذاکرات کے دوسرے بڑے اور اہم موضوع وسطی شہر حمص میں انسانی امداد کی فراہمی کے حوالے سے اسد حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ اس کی فورسز شہر میں محصور خواتین اور بچوں تک امدادی سامان نہیں لے جانے دی رہی ہیں لیکن شامی نائب وزیرخارجہ فیصل المقداد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
فریقین کے درمیان گذشتہ ہفتے مذاکرات کے آغاز میں حمص سے خواتین اور بچوں کے انخلاء کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس پر حزب اختلاف کے بہ قول حکومت کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔حمص کے گورنر طلال برازی کا کہنا ہے کہ پولیس ،طبی عملہ اور شامی عرب انجمن ہلال احمر کے ارکان شہریوں کے انخلاء کا انتظام کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اقوام متحدہ کے ردعمل کے منتظر ہیں مگر الاخضر الابراہیمی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے خواتین اور بچوں کے انخلاء میں تاخیر ہورہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

2 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago