جمعے کو امن مذاکرات کے لیے اقواِم متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرنے کے بعد کہا کہ دونوں فریق اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یہ کانفرنس شام کو بچانے کی کوشش ہے۔
اقواِم متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے جمعرات اور جمعے کو فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے انھیں براہِ راست بات چیت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
اخضر ابراہیمی نے حکومتی وفد سے صبح جب کہ حزِب مخالف وفد سے دوپہر کو ملاقات کی۔
انھوں نے دوپہر کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فریقین ’ایک ہی کمرے میں‘ ملاقات کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔
انھوں نے کہا ’میں نے فریقین سے جو بات کی ہے وہ حوصلہ افزا ہے اور ہم دونوں کی ملاقات کے منتظر ہیں‘۔
اخضر ابراہیمی نے کہا ’ اس امن کانفرنس کا مقصد شام کو بچانا ہے اور مجھے امید ہے کہ شامی حکومت، حزبِ مخالف اور اقوامِ متحدہ یہ کام کر لیں گے‘۔
شام امن کانفرنس بدھ کو جنیوا کے نواحی قصبے مونٹرو میں شروع ہوئی تھی اور کانفرنس کے پہلے دن فریقین کےدرمیان تلخ و ترش جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
فریقین نے ایک دوسرے پر کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا الزام عائد کیا تھا۔
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی تک شام کو نہیں بچایا جا سکتا۔ دوسری جانب شامی اہل کار اس بات پر مصر ہیں کہ صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔
امن کانفرنس کے پہلے دن کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام میں امن قائم کرنے پر زور دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’بس بہت ہو گیا، شام کے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا وقت آ گیا ہے‘۔
بان کی مون کے مطابق ’اصل کام جمعے کو شروع ہو گا، ہمارے سامنے راستہ مشکل ہے، لیکن اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر حالت میں حل کیا جانا چاہیے‘۔
شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور، جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان