ان خوش نصیب افغان شہری کا نام حاجی محمد ہے اور وہ انیس سال کی عمر میں بسلسلہ روزگار سعودی عرب آئے تھے اور گذشتہ سینتیس سال سے پلمبر کے طور پر کام کررہے ہیں۔اس دوران وہ صرف ایک مرتبہ ہی اپنے آبائی وطن افغانستان واپس گئے ہیں۔
حاجی محمد مدینہ منورہ میں بہت مقبول ہیں کیونکہ وہ گذشتہ ربع صدی سے سعودی ٹی وی پر امام مسجد نبوی کے پیچھے نمازیوں کی پہلی صف میں دائیں طرف کھڑے نظر آرہے ہیں۔انھوں نے ایک ہی سیاہ رنگ کی پگڑی سر پر اوڑھے ہوتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ”وہ جوان عمری ہی سے تمام نمازیں مسجد نبوی ہی میں ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں”۔وہ مسجد نبوی میں پہنچنے کے بعد نمازیوں کے زیرتلاوت قرآن مجید کے نسخے واپس خانوں میں رکھنے کا کام بھی بڑی محبت اور ادب سے کرتے ہیں۔
مسجد نبوی میں ایک ہی جگہ پانچوں وقت کی نمازیں ادا کرنے کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے بہت سے زائرین حاجی محمد صاحب کے دوست بن چکے ہیں۔ان میں سے بعض ہر سال مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور ان کی وہاں حاجی صاحب سے ملاقات ہوتی ہے۔ان کی سیاہ پگڑی اور نماز کے لیے مخصوص جگہ ان کی پہچان بن چکی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ”میں جب کسی آجر کے لیے کام کرتا ہوں تو میں اسے بتادیتا ہوں کہ میں مسجد نبوی میں نماز ادا کروں گا اور کوئی بھی نماز ضائع نہیں کرنا چاہتا۔رمضان المبارک کے دوران میں کام نہیں کروں گا کیونکہ میں تمام وقت مسجد نبوی میں ہوتا ہوں”۔
اس خوش نصیب افغان نے دو شادیاں کررکھی ہیں اور ان کے بارہ بچے ہیں۔اس وقت وہ تیسری بیوی کی تلاش میں ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان