غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے 6 کار بم دھماکے ہوئے، جن میں سے سب سے ہولناک دھماکا جنوبی ضلع دشیر ایک بازار میں اس وقت ہوا جب لوگ اپنے معمول کے مطابق اشیائے صرف خریدنے میں مصروف تھے، دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی ہوئے، پولیس اور طبی اداروں نے دھماکوں کے نتیجے میں 24 افراد کی ہلکات جبکہ 50 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے، اسپتالوں میں ز زخمیوں میں سے بھی کئی کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ 2013 سے اب تک عراق میں فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات میں 10 ہزار افراد ہلاک اورہزاروں ہی زخمی ہوچکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید