غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بغداد کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے 6 کار بم دھماکے ہوئے، جن میں سے سب سے ہولناک دھماکا جنوبی ضلع دشیر ایک بازار میں اس وقت ہوا جب لوگ اپنے معمول کے مطابق اشیائے صرف خریدنے میں مصروف تھے، دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی ہوئے، پولیس اور طبی اداروں نے دھماکوں کے نتیجے میں 24 افراد کی ہلکات جبکہ 50 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے، اسپتالوں میں ز زخمیوں میں سے بھی کئی کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ 2013 سے اب تک عراق میں فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات میں 10 ہزار افراد ہلاک اورہزاروں ہی زخمی ہوچکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان