ایکسپریس نیوز کے مطابق 2013 کا سال روشنیوں کے شہر کراچی کی تاریخ کا سب سےخونی سال رہا جس میں 2700 افرادزکو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اورسیکڑوں افرادزخمی ہوکرزندگی کے ساتھ چلنے کے قابل نہ رہے۔ سندھ پولیس اوررینجرزکی رپورٹس میں ہزاروں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کا دعوی توہوا لیکن مختلف جرائم کے 40 ہزار848واقعات ان رپورٹس کا منہ ہی چڑاتے رہے۔ قتل، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، چوری اوردہشت گردی کی وارداتیں عام رہیں۔
ایک اندازے کے مطابق بھتہ خوروں کی دھمکیوں کی وجہ سے دوتہائی سے زیادہ واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے تاہم اس کے باوجود 2013میں بھتہ خوری کے 500کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ سرکاری اعدادوشمارکے مطابق 9ہزارٹارگیٹڈ کارروائیوں میں 14ہزارجرائم پیشہ افرادکوحراست میں لیا گیا اوران کے قبضے سے 16آٹھ ہزارہتھیاربرآمد ہوئے جبکہ 181 ٹارگٹ کلرزکوبھی گرفتارکیا گیا۔
گزشتہ برس گن پوائنٹ پرچھینی جانے والی یا کھڑی کھڑی غائب ہونے والی گاڑیوں میں 22ہزار موٹرسائیکلیں اور4ہزارکاریں شامل ہیں۔ اس دوران سیکیورٹی فورسزنے جانوں کے نذرانے بھی پیش کئے، فرض کی ادائیگی میں 190 پولیس اوررینجرز اہلکارشہید بھی ہوئے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان