مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کیی تنظیم “فلسطین۔ شام ایکشن گروپ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2013ء کے دوران شام میں سرکاری فوج کے حملوں میں اندرون ملک 1842 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 31 فلسطینی شام سے نقل مکانی کرنے کے بعد دوسرے ملکوں میں پہنچنے کے بعد جام شہادت نوش کرگئے۔
اندرون ملک مارے جانے والوں میں 1270 افراد مختلف خیمہ بستیوں میں شہید ہوئے اور 512 فلسطینیوں کو مہاجر کیمپوں سے باہر مارا گیا۔ اکتیس فلسطینی شام سے فرار ہونے کے بعد یورپی ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بھیٹھے۔
رپورٹ کے مطابق دمشق میں 950، اور کے مضافات میں 433، درعا میں 196، حلب میں 96، حمص میں 27، القنیطرہ میں 24، حماتۃ میں 22، اللاذقیہ میں 19، ادلب میں 20 فلسطینی شہید ہوئے۔
بیرون ملک نقل مکانی کے دوران مشکل حالات کا سامنا کرنے والے پندرہ فلسطینی مصر میں چھ یونانان، چھ مالٹا، دو اٹیلی اور ایک ایک ترکی اور لیبیا میں انتقال کرگیا۔
رپورٹ کے مطابق 753 فلسطینی پناہ گزین براہ راست فضائی بمباری، 441 مسلح جھڑپوں کے دوران فائرنگ کی زد میں آنے،129 کو حراست میں لیے جانے کے بعد اذیتیں دینے،222 کو گوریلا کارروائیوں، 63 کو معرکوں کے دوران اور 48 کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں گولیاں مار کرشہید کیا گیا۔27 فلسطینی صہیونی فوج کی شام میں گولہ باری سے شہید ہوئے،26 پانی میں ڈوب کر اور 29 فلسطینی بھوک اور سردی کےباعث مارے گئے۔
مرکزاطلاعات فلسطین
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان