تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تیپ نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کے شہر مصراتہ سے امریکی میرینز اور مقامی سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔ سیف اللہ بن حسین اپنی کنیت ابوعیاض سے زیادہ معروف ہیں اور وہ ماضی میں افغانستان میں امریکا کی اتحادی فوجوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔ انھوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ ان پر ستمبر 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی شہ دینے کا بھی الزام ہے۔اس حملے میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بن غازی اور دوسرے شہروں میں متعدد کار بم دھماکے ہوچکے ہیں اور فوج اور پولیس کے افسروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم انصارالشریعہ پر ہی ان بم دھماکوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان