یہ بات الفرقان معرکے کی پانچویں برسی کے موقع پر حماس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کی گئی تھی۔ تحریک نے ایک بار پھر قابض اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو مسترد کیا اور کہا کہ فلسطینی عوام نے کسی کو بھی اپنی جانب سے مذاکرات کا حق نہیں دیا ہے۔ اسی لئے وہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے کسی معاہدے کی پابندی کرنے کے ذمہ دار نہیں۔
حماس کے مطابق، “[الفرقان معرکے کے دوران] دشمن اسرائیل حماس کی زیر قیادت مزاحمت کی ہمت کو توڑنا چاہتا تھا مگر ہمارے لوگوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ہم قربانیوں کے باوجود اپنی زمین یا مزاحمت کا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔
حماس نے کہا کہ، “قابض حکام کی جانب سے غزہ کے مضافات سے فوجیں ہٹانے کی وجہ سے الفرقان معرکہ زمانے میں ایک تاریخ ساز واقعہ کی حیثیت اختیار کرگیا ہے اور اس نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے عوام کی مضبوط خواہش اسرائیل کے ٹینکوں، جنگی جہازوں اور بین الاقوامی پابندی کے شکار ہتھیاروں سے زیادہ سخت ہے۔”
اس موقع پر حماس کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ پر مسلط محاصرے کو سخت کرنے سے مزاحمت کو ختم کرنے یا حماس کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوگا۔
حماس کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ،” تحریک حماس دوسری مزاحمتی طاقتوں کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کو محاصرے کا نشانہ بنانے والوں کو حیرت انگیز سرپرائز دیتی رہے گی اور وقت کے ساتھ یہ ثابت کردے گی کہ وہ عوام اور قوم کے دلوں میں گھر کرگئی ہے اور اس کے دشمن اسے مزاحمت کے راستے سے ہٹانے کے لئے بہت کمزور ہیں۔”
مرکز اطلاعات فلسطین
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام