اس امر کا اعلان سعودی عرب کی کابینہ نے اپنے حالیہ اجلاس کے موقع پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا ہے۔ کابینہ نے اپنے بیان میں القدس شہر کے اندر قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مقامات مقدسہ کی توہین اور مسجد اقصی کو زمانی اور مکانی لحاظ سے تقسیم کرنے کی سازشوں سے متعلق بھی متنبہ کیا ہے۔
کابینہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مملکت سعودی عرب، اقوام متحدہ اور عالمی ادارے کے رکن ملکوں کے ساتھ ملکر سیکیورٹی کونسل کی مبنی بر حق، شفاف اور جامع اصلاح کے عمل میں سنجیدہ ہے۔ مملکت عرب اور اسلامی ایشوز کے حوالے سے تاریخی طور پر اہتمام کرتی چلی آئی ہے۔ ریاض خود کو بین الاقوامی قانون کا پابند سمجھتا ہے اس لئے مملکت سیکیورٹی کونسل سمیت عالمی ادارے کے مختلف اداروں کو فعال بنانے کا خواہاں ہے۔ مملکت کی یہ کوشش اسی ضمن میں بین الاقوامی اپیلوں کی غمازی کرتی ہے تاکہ دنیا میں زیادہ امن اور استحکام کے ذریعے تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
سعودی عرب نے گذشتہ روز سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات کے لئے مختلف رکن ملکوں کے اجلاس میں اپنے مستقل مندوب کے ذریعے یہ موقف پیش کیا کہ سیکیورٹی آج کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی۔ عالمی فورم فلسطین اور شام سمیت دیگر عالمی مسائل کے حل میں تقریبا ناکام ہو چلا ہے اور اسی حوالے سے بین الاقوامی امن و سلامتی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان