جن میں 28 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔ بمباری میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، ذرائع ابلاغ کے مطابق حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر جنگی طیاروں سے دھماکا خیز مواد سے بھرے بیرل پھینکے جس سے بڑی تباہی ہوئی۔ بمباری میں 28 بچوں اور 4 خواتین سمیت 76 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بمباری کے بعدعلاقہ اٹا قصبہ کرم البیک ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ادھراقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 2014ء کے آخرتک مشرق وسطیٰ میں شامی مہاجرین کی تعداد 4.1 ملین ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون اور دیگر عالمی رہنمائوں نے شامی فوج کے حملے میں بچوں اور خواتین کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان