جن میں 28 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔ بمباری میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، ذرائع ابلاغ کے مطابق حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر جنگی طیاروں سے دھماکا خیز مواد سے بھرے بیرل پھینکے جس سے بڑی تباہی ہوئی۔ بمباری میں 28 بچوں اور 4 خواتین سمیت 76 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بمباری کے بعدعلاقہ اٹا قصبہ کرم البیک ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ادھراقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 2014ء کے آخرتک مشرق وسطیٰ میں شامی مہاجرین کی تعداد 4.1 ملین ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون اور دیگر عالمی رہنمائوں نے شامی فوج کے حملے میں بچوں اور خواتین کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید